علاج کے لئے شہد انتخاب کرنے کے وجوہات

زمرے: مقالات و پژوهش ها

1. شہد 14٪ رطوبت کے ساتھ فساد سے مانع ہے.
2. شہد 48 گھنٹہ میں جراثیم(Germs) اوربیکٹیریا (Bacteria) کو ختم کردیتا ہے کیونکہ میکروب شہد کے ساتھ اپنی حیات جاری نہیں رکھ سکتا۔
3. شہد رطوبت کو جذب کرتا ہے؛ بنابریں شہد بہت ساری بیماریوں میں کار آمد اور موثر علاج ہے.
4. شہد کے اندر موجود شوگر معمولی ہے اور بہت آسانی کے ساتھ منہ سے گلے اور معدہ کے راستہ سے خون بن جاتا ہے. انسان کے جسم میں شوگر کے سرعت کے ساتھ جذب ہونے کی خاصیت ڈاکٹری علوم میں بے شمار اہمیت کی حامل ہے۔جسم اسے بطور کامل اور کسی کمی اور زیادتی کے بغیر مصرف کرتا ہے اور اس سے بیماری کو شفا بخشنے میں مدد حاصل کرتا ہے۔
5. شہد ایک شفا بخش مادہ ہے جو حیات بخش اور سائیڈ ایفکٹ سے خالی ہے۔اس کا موثر مادہ معجزنما اثر سائیڈ ایفکٹ کے بغیر بیماری کا علاج کرنے میں دکھائی دے گا.

1. شہد کا ڈھیلا ہونا،رس کرنا(شکر میں تبدیل ہونا)،حجمی وزن کا بڑھا ہونا،حد درجہ میٹھاس اور چپکنا وغیرہ ایسے عوامل و اسباب ہیں کہ عام طور سے لوگ اس کی شکایت کرتے ہیں،اسی وجہ سے اس کا تنہا استعمال کرنے اور طویل مدت تک استعمال کرنے سے اجتناب کرتے ہیں جبکہ شہد سے معالجہ کرنے کے لئے شہد کا استعمال کم سے کم 3 ماہ سے6 ماہ تک جاری رکھیں.
2. پھول کے صفوف کا دانہ دار ہونا،اکثر پھولوں کے صفوف میں نا پسندیدہ بو اور مزہ ،ناقص جذب اور جذب ہونے پر معدہ پر دباؤ۔ایسے اسباب اور عوامل ہیں جس کی اکثر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے لیکن علاج کے لئے اس کا مصرف 3سے 6ماہ تک 3دن کے فاصلہ سے ہر15روز پر طولانی ہونا چاہیئے.
3. مزہ،ناپسندیدہ بو،سخت ہونے،نگلنے کی مشکلات،ناقص جذب اور ایسا دباؤ جو معدہ پر برہ موم (Propolis) کے جذب ہونے کی وجہ سے آتا ہے۔اس کا تنہا استعمال مانع اور طولانی  مدت کا طالب ہے ۔جبکہ علاج کے لئے 1سے2ماہ تک ایک روز ناغہ کر کے استعمال کیا جائے.
4. ترش اور کھٹا ہونا اور اس کا مسلسل استعمال چوسنے کی حالت میں بعض لوگوں میں خارش یا منہ میں زخم کا باعث ہوتا ہے جس کی اکثر لوگ شکایت کرتے ہیں نتیجہ کے طور پر اس کا تنہا استعمال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں.

رای دیجیئے

آپ مہمان کے عنوان سے اپنی رای ارسال کررہے ہیں

ارتباطی طریقے

دفتر قم کاپتہ:ایران - قم - بلوار محمد امین-بین کوچه 11و13
رابطہ نمبر: 00982532930344 - 00989127553030

  • دانشنامه شفاسنتر
  • فروشگاه عسل حکیم
  • جامعة علوم القرآن